چلو کفر ٹوٹا

اپنی پہچان کا دفع کرنا بہت مشکل کام ہے. اس میں آپ پر لسانیت یا نسل پرستی کا الزام لگ سکتا ہے. آپ اپنے خلاف نفرت کا طوفان کھڑا کرستے ہو یا خود آپ کو نفرت کے سمندر میں غرق ہو جانے کا ڈر لاحق رہتا ہے. مگر ایسا کیوں ہے کہ جس معاشرے نے کبھی آپ سے آپ کی زبان یا پہچان کی وجہ سے تعصّب نہیں کیا وہاں اس طرح کا خوف ہو؟ جس معاشرے نے ہمیشہ آپ سے محبت اور برابری بلکہ کہیں کہیں بڑائی دی ہو وہاں آپ کو اپنی پہچان کے لئے لڑنا پڑے؟ ایسا کیوں ہے؟
ان سوالوں کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے بہت کچھ لکھنے اور مٹانے کے بعد یہاں تک پہنچا

1 comments:

OmEr Jamil said...

Hi, this is OmEr Jamil (commented following you at TSP) I like the way you think bro :-) You are most welcome to participate and share your thoughts at my good-writeup-share-spot: www.haqeeqat.org

Post a Comment

 

Design in CSS by TemplateWorld and sponsored by SmashingMagazine
Blogger Template created by Deluxe Templates